Friday, January 31, 2014

میری پہچان ہے کل کے آثار میں

navaras
میں یہی تو نہیں اور یہیں تک نہیں
میری پہچان ہے کل کے آثار میں
(انور ندیم)
آج میں ایک ہندوستانی ہوں، اڑھائی سو سال پہلے میرے بزرگ افغان تھے، دو ہزار سات سو اکیس برس قبل اسرائیلی، چار ہزار سال پہلے عراقی، ستر ہزار سال پہلے افریقی اور دو لاکھ برس پہلے بندر۔
پٹھانوں کے ساٹھ قبیلوں میں سے ایک آفریدی قبیلے سے میرا تعلق ہے جس کا بنیادی وطن ہے پاکستان کے سرحدی صوبے کے سات فیڈرلی ایڈمینسٹرڈ ٹرائبل ایریاز (فاٹا) میں سے ایک، خیبر ایجنسی اور افغانستان کا مشرقی قبائلی علاقہ۔ 1748ء سے 1761ء کے درمیان احمد شاہ ابدالی کے پانچ حملوں کے دوران کچھ آفریدی پٹھان قائم گنج، ضلع فرخ آباد اور ملیح آباد، ضلع لکھنؤ میں آ بسے۔ میں ملیح آباد کے آفریدیوں کی اولاد ہوں۔
ممتاز تاریخ دان اور اسرائیل کے دوسرے صدر ییزاخ بین زوی کی شاہ اکر کتاب ’’دی ایکزایلڈ اینڈ دا ریڈیمڈ‘‘ (1957) ایک درجن سے زیادہ فارسی دستاویز، ان گنت یہودی کتابیں، کئی یہودی تنظیموں کی تحقیقات اور اپنے ماضی کے تعلق سے خود آفریدی پٹھانوں کی قبائلی روایت، سب اشارہ کرتے ہیں آفریدی پٹھانوں کے اسرائیلی پس منظر کی طرف۔
آفریدی پٹھانوں کے قدیم پوشیدہ پس منظر کے باعث آج ملیح آباد عالمی دلچسپیوں کی آماجگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے دو اسرائیلی تنظیمیں آمی شاؤ اور بیت زور خواہش مند ہیں کہ ملیح آباد کے آفریدی پٹھان اسرائیل ہجرت کر کے اپنی جڑوں کی طرف واپس لوٹ جائیں۔ امریکہ کے مشہور و معروف نوجوان یہودی گلوکار ایلیکس ہیلپرن ملیح آباد آ کر اپنے آفریدی برادران کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ناچیز کو اپنے پہلے خط میں انہوں نے یہی لکھا کہ آج ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں کہ وہ اپنے ہزاروں سال پہلے کے بچھڑے ہوئے بھائیوں سے رابطہ قائم کر سکے ہیں۔ بقول ان کے اس دن کا انتظار ان کے بزرگوں کو تین ہزار سال سے تھا۔
کچھ لوگوں کی نظر میں آفریدی پٹھانوں میں یہودیوں کی گہری دلچسپی صرف ایک سازش ہے مسلم سماج کو اس کے جانباز اور دلیر آفریدی پٹھانوں سے محروم کر کے یہودی بنانے کی، جبکہ سچ تو یہ ہے کہ اسلام اور عیسائیت کے برخلاف یہودی مذہب مزاجاً تبلیغی نہیں، یہودی اپنے مذہب کے ماننے والوں کی تعداد میں اضافے کے لئے کوئی جتن نہیں کرتے۔ دراصل کسی نسلاً غیر اسرائیلی کے لئے یہودی بننا آسان نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہودی مذہب بنیادی طور پہ بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب کی اولادوں تک ہی محدود رہا جبکہ اسلام اور عیسائیت کا پیغام ساری دیا کی تمام نسلوں اور قوموں تک پہنچا، کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ چونکہ کسی نسلاً غیر اسرائیلی کے لئے یہودی بننا آسان نہیں اس لئے یہودی آفریدی پٹھانوں کو نسلاً اسرائیلی ثابت کرنے پہ اتارو ہیں جس سے کہ ان کو یہودیت میں سمیٹا جا سکے اور یہودیوں کی تعداد میں اضافہ ہو لیکن اگر ایسا ہی ہوتا تو نائیجیریا کے ایبو اور جنوبی افریقہ کے لیمبا اب تک یہودی بنا لئے گئے ہوتے جو اپنے شجرے اسرائیل کے گمشدہ قبیلوں سے جوڑتے ہیں جبکہ اس کی تصدیق کے لئے کوئی تاریخی حوالہ نہیں ملتا۔
آفریدی پٹھانوں کے اسرائییی پس منظر کی تصدیق کی غرض سے خاکسار نے نومبر 2002ء میں لندن یونیورسٹی کے عالمگیر شہرتوں کے مالک پروفیسر ٹیوڈر پارفٹ اور دیسی بدیسی زبانوں کی عالیمہ ڈاکٹر یولیا ایگاروو کے ساتھ مل کر ملیح آباد کے آفریدیوں کے لعاب دہن یکجا کئے ڈی این اے نمونوں کے طوپر جینیاتی تحقیق کی خاطر۔
ڈی این اے جانچ کے ذریعہ نسلی پس منظر پتہ لگانے کا طریقہ بائیس سال پرانا ہے، انسانی جسم کے ہر ذرہ میں ڈی این اے موجود ہے اور کسی بھی قسم کی تحقیق کی خاطر ڈی این اے حاصل کرنے کے دو سب سے آسان طریقے ہیں، خون یا لعاب ذہن کے نمونے لینا، کئی پیڑھیوں میں کسی ایک فرد کے ڈی این اے میں کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے جو اس کی تمام آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی ہے، وقت گزرتا ہے اور کئی نسلوں بعد اس پرانی تبدیلی میں تو کوئی مزید بدلاؤ نہیں آتا مگر ڈی این اے میں ایک اضافی تبدیلی ضرور ہوتی ہے، وقتاً فوقتاً کئی کئی نسلوں کے بعد انسانی ڈی این اے میں مختلف تبدیلیاں یکجا ہوتی رہتی ہیں جنہیں ہم سائنسی زبان میں میوٹیشن یا ماررکر کہتے ہیں، یہی میوٹیشن یا مارکرس فرد کی جڑوں کا پتہ دیتے ہیں، افریقہ کے باہر جانے والی اس سلسلہ کی سب سے پرانی کڑی یا میوٹیشن یا مارکر ہے، پچاس ہزار سال پرانا ایم (M-168) جو ہر غیر افریقی میں موجود ہے اور اس کا ثبوت ہے کہ تمام مذہبی کتابیں اس معنی میں سچی ہیں کہ ہم سب ایک ہی انسانی جوڑے کی اولادیں ہیں جسے ہم آدم و حوا بھی پکار سکتے ہیں۔ یہ جوڑا آج سے پچاس یا ستر ہزار سال پہلے افریقہ میں رہتا تھا اور وہیں سے اس کی اولادوں نے ساری دھرتی پر بکھر کے اس دنیا کو آباد کیا۔
جہان غیر میں آخر کہاں یہ کارواں ٹھہرا
میری ہستی کا ہر پہلو سفر کا ترجماں ٹھہرا
انور ندیم
عراق میں کیلڈی یا کیلیڈین نام کی ایک قوم رہتی ہے جو آج عیسائی ہے اور اس کی عراق میں آبادی ہے تقریباً چھ لاکھ اور امریکہ میں ڈیڑھ لاکھ، آج سے چار ہزار سال پہلے عراق کے شہر اُر سے اسی قوم کے ایک قبائلی سردار حضرت ابراہیم نے ہجرت کی اور موجودہ اسرائیل میں جا بسے، حضرت ابراہیم تقریباً آدھی انسانی نسل کے لئے باعث احترام ہیں یعنی دو اررب عیسائی، ایک ارب بیس کروڑ مسلمان اور ڈیڑھ کروڑ یہودی، حضر تابراہیم کے ایک پوتے تھے حضرت یعقوب جن کا ایک نام اسرائیل بھی ہے۔ حضرت اسرائیل کے بارہ بیٹے ہوئے جن سے اسرائیل کے بارہ قبیلے پھوٹے۔
آج سے 2 ہزار 721 برس پہلے شمالی اسرائیل پر شمالی عراق، جسے قردستان بھی کہا جا سکتا ہے، کے اسریریائی حملہ آوروں نے حملہ کیا اور وہاں بسنے والے دس قبیلوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جلاوطن کر دیا، یہ قبیلے پھر ہمیشہ کے لئے منظر عام سے غائب ہوگئے اور تاریخ میں اسرائیل کے دس گم قبیلوں کی حیثیت سے جانے گئے، سمجھا جاتا ہے کہ پٹھانوں کا آفریدی قبیلہ اصل میں انہی دس قبیلوں میں سے ایک افرائیم قبیلہ ہے جو آخرکار مشرقی افغانستان اور خیبر میں جا بسا۔
آہ ان سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے آدم و حوا کی اولاد یہ کیا گزری ہے
موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں ہم پہ کیا گزرے گی اجداد یہ کیا گزری ہے
فیض احمد فیض
تحریر: ڈاکٹر نورس جاٹ آفریدی

No comments:

Post a Comment