Friday, January 31, 2014

ممبئی حقیقت کی بانہوں میں

دسمبر 1911ء میں بادشاہ جارج پنجم اور ملکہ میری کے ہندو دورے کی یاد میں جب ممبئی کے گورنر لارڈ سڈنہیم کی تجویز پر بمقام اپالو بندرگاہ گیٹ وے آف انڈیا کی تعمیر شروع ہوئی تو ہندوستان کی تین یہودی ملتوں میں سے ایک، بغدادی ملت کی محترم شخصیت سر جیکب سسون نے آٹھ لاکھ روپے مہیا کئے، جس سرمائے سے اس شاندار عمارت کی تعمیر ممکن ہو سکی۔ بروز چار دسمبر 1924ء ہندوستان کے اکلوتے یہودی وائسرائے لارڈ ریڈنگ نے اسکارسم اجراء کیا اور 11 نومبر 2003ء کے روز یہ حسین اور شاندار عمارت اس نوجوان کے سامنے تھی جسے ہندوستانی یہودیوں اور ہندوستان میں اسرائیل کے گم قبیلوں پر اس کی تحقیق یہاں لے آئی تھی!۔
اس دن شام کو میں گیٹ وے سے کف پریڈ جہاں میں مقیم تھا، کولابہ مارکیٹ گے گزرتا ہوا واپس لوٹا۔ میں نے محسوس کیا کہ بازار میں زیادہ تر شاندار دکانیں گجراتی مسلمانوں اور پارسیوں کی تھیں، وہیں بازار کے بیچوں بیچ ایک بلند دروازے پر لکھا تھا ’کسر و باغ (خسرو باغ) پارسی کالونی، مجھے بتایا گیا کہ یہ ممبئی کی سب سے بڑی پارسی کالونی ہے۔ میں بہت دیر تک سڑک پار ٹھیک کالونی کے دروازے کے سامنے کھڑا رہا، اسے غور سے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ کیا صورت نکلے کہ میں دروازے میں داخل ہو سکوں اور زندگی میں پہلی بار کوئی پارسی گھر دیکھ سکوں۔ لمحات میں کتنی ہی اہم پارسی شخصیات کے نام میرے ذہن میں روشن ہوتے چلے گئے جیسے ہومی، بھابھا، دادا بھائی، نورو جی، فیروز شاہ مہتا، زوبن مہتا، جنرل مانک شاہ، جے آر ڈی ٹاٹا، رتن ٹاٹا، آدی گودریج، اٹارنی جنرل سوراب جی، پرویز دمامیہ، سہراب مودی، روہنٹن مستری، شامک ڈارو نانی پالکی والا، سونی تاراپور والا، عادل جوسے والا، پرسس کھمباٹا، ایلک پدمسی، کائیڈاد گستاد، پریزاد زورابین، پیناز مسانی، بیجان دارو والا، گولی دارو والا، ارد شیر ایرانی، ڈیزی ایرانی ہنی ایرانی، ارونا ایرانی، جے بی ایچ واڈیا اور نسلی واڈیا، باممے ڈائنگ کے مالک اور محمد علی جناح کے حقیقی نواسے۔ مزے کی بات ہے کہ خالق پاکستان کی اولادیں پاکستان میں نہیں، ہندوستان میں ہیں اور عقیدے سے مسلمان نہیں پارسی ہیں!۔
ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی ان کی اکلوتی اولاد تھیں اور یہی صورت پاکستان کے پہلے گورنر جنرل جناح کے ساتھ بھی تھی جن کی صاحب زادی ان کی اکلوتی اولاد تھیں۔ دونوں کی بیٹیوں نے پارسیوں سے شادی کی۔ اندرا گاندھی کے شوہر تھے فیروز گاندھی، جن کے دو بیٹے ہوئے راجیو گاندھی اور سنجے گاندھی۔ اس عظیم پارسی خاندان کی تیسری نسل ہے، راجیو گاندھی کی دو اولادیں، پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی اور سنجے گاندھی کے صاحب زادے ورون فیروز گاندھی۔ اس اعتبار سے ہندوستان کا ایک وزیراعظم نسلاً پارسی تھا!۔
اگلے دن کے دورے کی شروعات میں نے یہودی کلب سے کی۔ یہ کلب 137 مہاتما گاندھی روڈ پر ایک پارسی عمارت جیرو بلڈنگ کی تیسری منزل پر تھا۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ کلب ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے۔ یہ کلب 1938ء میں قائم ہوا تھا، یہاں مختلف یہودی تنظیموں اور اداروں کی تقاریب منعقد ہوا کرتی تھیں۔ یہ کلب اپنے ممبران کو کاشیر کھانا بھی فراہم کیا کرتا تھا، کاشیر کھانے سے مراد ہے وہ کھانا جو یہودی کسوٹیوں پر کھرا اترے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا مسلمانوں کا کھانا۔ یہودیوں کو بھی انہی چیزوں سے پرہیز ہے جن سے مسلمانوں کو، سوائے شراب کے پر یہودیوں کے یہاں ایک اضافی سختی ہے یہودی کبھی بھی بیک وقت گوشت اور دودھ یا دودھ سے بنی کوئی چیز نہیں لیتے۔ وہ دونوں کے درمیان کم سے کم تین گھنٹے کا فاصلہ ضرور رکھتے ہیں۔ بعض یہودی گھروں میں تو گوشت اور دودھ سے بنی چیزوں کے لئے برتن بھی الگ الگ ہوتے ہیں!۔
میرا اگلا پڑاؤ یہودیوں کی عبادت گاہ ایتز ہائم پرئر ہال تھا۔ عبرانی نام ’ایتز ہائم‘ کے معنی ہیں زندگی کا پیڑ۔ اس عبادت گاہ کو 1888ء میں قائم کیا تھا یہودی تعلیم گاہ الی کدوری ہائی اسکول کے پریسڈنٹ، سیکرٹری اور ٹریزرر ہائم سیموئل کیہمکر نے۔ کیہمکر ایک عظیم یہودی تاریخ دان تھے۔ جنہوں نے ہندوستان کی سب سے بڑی یہودی ملت بنی اسرائیل (یہودی اس کا تلفظ بینی اسرائیل کرتے ہیں) کی تاریخ لکھی (ہندوستان کا یہودی ادب، امکان نومبر 3ء) ان کا ماننا ہے کہ بینی اسرائیل یہودی 175 برس قبل مسیح ہندوستان آ کر بسے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بینی اسرائیل ملت کا تعلق اصل میں اسرائیل کے دس گم قبیلوں میں سے ایک ’لیوئی‘ سے ہے۔ ان کی یہ بات سچ ثابت ہوئی جب لندن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹیوڈر پارفٹ کی جینیاتی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ ہندوستان کی بینی اسرائیل یہودی ملت اصل میں حضرت موسی کے بڑے بھائی آران کے خاندان کی تازہ ترین پشت ہے۔ ڈاکٹر پارفٹ وہی پروفیسر ہیں جنہوں نے ناچیز کی دعوت پر نومبر 3ء میں ملیح آباد کا دورہ کیا اور خاکسار کے ساتھ مل کر پچاس آفریدی پٹھانوں کے ڈی این اے نمونے یکجا کئے ان کے قدیم اسرائیلی پس منظر پر تحقیق کی خاطر۔ (جوش کے نسلی پس منظر پر علم و تحقیق کی چکاچوند، امکان، فروری3ء)۔
ایتز ہائم پرئر ہال ممبئی کے ایک خالص مسلم محلے عمر کھاڑی میں تھا۔ ممبئی میں تقریباً سبھی یہودی عبادت گاہیں اور ان کی بستیاں مسلم محلوں میں ہیں۔ ممبئی کے مسلمانوں اور یہودیوں نے مذہبی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ ہندوستان میں یہودیوں کی کل 34 عبادت گاہیں ہیں جن میں سے 9 ممبئی میں ہیں، ممبئی کی زیادہ تر یہودی عبادت گاہوں کے محافظ یہودی نہیں مسلمان ہیں، ممبئی میں یہودیوں کی چار علمی درس گاہیں ہیں جن میں زیادہ تر طلباء مسلمان ہیں، اسرائیل جہاں مسلمانوں اور یہودیوں میں روز ٹکراؤ ہوتا ہے اس کے بالکل برعکس ہے ممبئی میں صورت حال۔ جہاں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان لطیف ترین رشتے ہیں۔ سوائے ممبئی کے آج پوری دنیا میں مسلمانوں اور یہودیوں میں جو کشیدگی پائی جاتی ہے وہ ہمیشہ نہیں تھی، اسپین میں مسلم حکومت کی تین صدیوں کو یہودی اپنی تاریخ کا سنہرا دور مانتے ہیں۔ سن 711ء میں مسلمانوں نے اسپین پر اپنی حکمت کی جو 2 جنوری 1492ء تک برقرار رہی۔ سن 900ء سے 1200ء کے وقفے کو یہودی اپنا عالی شان وقت مانتے ہیں، جیسے ہی اسپین میں مسلم حکومت کا خاتمہ ہوا عیسائیوں نے یہودیوں کو اسپین اور پرتگال سے نکال باہر کیا، ان مصیبت زدہ یہودیوں کو پناہ دی شمالی افریقہ اور ترکی کے مسلمانوں نے۔ جس زمانے میں یہودی یورپ میں شہروں کی سرحدوں سے باہر رہنے کے لئے مجبور تھے، مسلم حکومتوں میں وہ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز تھے!۔
بغدادی یہودیوں کی عبادت گاہ ماگین ڈیوڈ سنیگاگ میری اگلی منزل تھی۔ اس عبادت گاہ کے سمواس (چوکیدڈار سے بلند عہدہ) تھے، محمد حسین پٹھان، ایک پنج وقتہ نمازی، روزے دار اور ایک اچھے مسلمان۔ ان سے ہم کلام ہونے پر معلوم ہوا کہ وہ یہاں 30 برس سے ملازم ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ عبادت گاہ کی تمام تر ذمہ داریاں ان کے سپرد تھیں۔ میرے اصرار کرنے پر انہوں نے مجھے مقدس توریت کے اسکرولس بھی دکھائے، ’آران ہاکودیش‘ سے نکال کر۔ آران ہاکودیش سے مراد ہے وہ لکڑی کی الماری جہاں انہیں حفاظت میں رکھا جاتا ہے!۔
یہودی عبادت گاہ میں کوئی تصویر یا مجسمہ نہیں ہوتا۔ یہودی مذہب بت پرستی کا سخت مخالف ہے۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام ایک ہی سلسلے کی تین کڑیاں ہیں جس میں سب سے پرانا ہے یہودی مذہب جو چار ہزار سال پرانا ہے عیسائی مذہب جو دو ہزار سال پرانا ہے اور اسلام ایک ہزار چار سو سال پرانا ہے، ان تینوں کا عقیدہ یہی ہے کہ خدا ایک ہے یہودی عبادت گاہ کو سنیگاگ کہا جاتا ہے۔ لفظ سنیگاگ، عبرانی لفظ بیت ہاکینیست کا یونانی ترجمہ ہے جس کے معنی ہیں گوشہ ملاقات!۔
ممبئی میں ہندوستانی یہودیوں کی بغدادی ملت کے دو سنیگاگ ہیں جن میں زیادہ پرانا ماگین ڈیوڈ سنیگاگ ہیں، اسے 1861ء میں بغدادی ملت کی نمایاں شخصیت ڈیوڈ سیسون (1792-1864) نے تعمیر کرایا۔ ڈیوڈ سیسون 1832 میں اپنا وطن بغداد چھوڑ کر ممبئی میں آ بسے۔ ہندوستان میں اپنے قیام کے 32 سالوں میں ڈیوڈ نے دو شہروں ممبئی اور پونا پر ایسی گہری چھاپ چھوڑی کہ اس کی نشانیاں آج تک دیکھی جا سکتی ہیں، جیسے ممبئی میں ڈیوڈ سیسون انڈسٹریل انسٹیٹیوٹ اینڈ ریفورمیٹری ڈیوڈ سیسون کتب خانہ، جیجاما تاادیان کا گھنٹہ گھر، ماگین ڈیوڈ سنیگاگ اور پونا میں سیسون ہسپتال اور لال دیول سنیگاگ!۔
سر جے جے روڈ، بائی کلہ میں ماگین ڈیوڈ سنیگاگ بھی ہندوستان میں باقی بغدادی سنیگاگوں کی ہی مانند یوروپین طرز تعمیر سے متاثر ہے۔ 1830ء کی دہائی میں عرب دنیا سے بڑی تعداد میں یہودی ممبئی اور کولکتہ میں آ کر بسے۔ جو بغدادی کے نام سے جانے گئے، وہ ہندوستان آئے تو عربی بولتے ہوئے پر گئے انگریزی بولتے ہوئے۔ برٹش راج کے دوران انہوں نے پوری طرح سے انگریزی تہذیب میں ڈھلنے کی کوشش کی اور 1947ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد انہوں نے بھی انگریزوں کے ساتھ بڑی تعداد میں ملک چھوڑ دیا، برطانیہ، امریکہ، کناڈہ، آسٹریلیا اور اسرائیل کے لئے۔ یہودیوں کی اسی ملت سے متعلق تھیں اردو شاعر سوز ملیح آبادی کی والدہ، ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ ریحانہ، جو بعد میں پاکستان چلی گئیں (تلاش، امکان، مارچ 3ء)!۔
ماگین ڈیوڈ سنیگاگ کے ہی احاطے میں یہودیوں کا ایک اسکول، جیکب سیسون ہائی اسکول موجود ہے۔ اس اسکول کو سرجیکب الیس سیسون نے 1903ء میں بنوایا۔ اس انگلش میڈیم یہودی اسکول کی پرنسپل ایک عیسائی ہیں اور زیادہ تر طلباء مسلمان۔ یہ ہندوستان کا اکلوتا ایسا اسکول ہے جہاں عبرانی زبان کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں کے نصاب میں یہودی تاریخ اور یہودی مذہب جیسے مضامین بھی ہیں!۔
ماگین ڈیوڈ سنیگاگ کے بالکل پیچھے ہے ایلیشا ازرا ازیکیل سیسون ہائی اسکول ۔ ان دونوں یہودی اسکولوں کی دیکھ ریکھ سیسون چیرٹی ٹرسٹ کرتا ہے۔ ازرا ازیکیلا اسکول میں طلباء کی تعداد 645 اور استادوں کی تعداد 25۔ یہاں زیادہ تر ناگپاڑہ علاقے کے ہی مسلم بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ہندوستان میں عیسائیوں کے سوا اگر کسی اقلیتی فرقے نے انگریزی تعلیمی میدان میں اپنی نمایاں حیثیت بنائی ہے تو وہ یہودی ہیں۔ آج احمد آباد میں زیادہ تر معیاری انگریزی اسکول یہودیوں کے ہیں!۔
ایلیشا ازرا ازیکیل سیسون ہائی اسکول سے میں اگرری پاڑہ میں ۸۔ محمد شہید ماگ پہ مقیم ماگین ہاسیدیم سنیگاگ گیا۔ سنیگاگ میں اس وقت تالہ لگا ہوا تھا، میں نے دیکھا عبادت گاہ کے ہی احاطے میں کچھ یہودی فلیٹس تھے۔ ایک فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا جہاں تین عورتیں بہت معمولی ساڑھیوں میں ملبوس فرش پر بیٹھی تھیں۔ ان عورتوں کو دیکھتے ہی یہ اندازہ ہوگیا کہ وہ معاشی اعتبار سے کمزور ہیں۔ میں نے پوچھ کر تصدیق کر لی کہ وہ بینی اسرائیل یہودی ہیں۔ یہ میرے لئے ایک حیرت کا مقام تھا مجھے اس کی تو خبر تھی کہ ہندوستان میں کچھ یہودی مالی اعتبار سے غریب بھی ہیں پر یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کا طرز زندگی ایسا غیر معیاری ہوگا۔ دنیا میں سب سے زیادہ دولت مند اور تعلیم یافتہ قوم یہودی ہے جبکہ 18 صدیوں تک یہودیوں کے لئے تعلیمی درس گاہوں کے دروازے بند رہے۔ دنیا کی 90 فیصد ہیرے کی کانوں کے مالک یہودی ہیں جبکہ دنیا کے تقریباً ہر ملک سے سوائے ہندوستان کے، یہودیوں کو کھڈیڑا گیا۔ ہالی ووڈ کی زیادہ تر فلم کمپنیوں کے مالک یہودی ہیں، نیو یارک ٹائمز ایک یہودی اخبار ہے۔ روئٹرس ایک یہودی نیوز ایجنسی ہے اور سی این این ایک یہودی نیوز چینل ہے۔ نوبیل انعامات کی ایک صدی میں (1902-2000) ہندوؤں (دنیا کی آبادی میں تقریباً 13.02%) نے 6 اور مسلمانوں (دنیا کی آبادی میں (19.06% نے 8 نوبل انعامات جیتے، وہیں صرف ایک کروڑ 40 لاکھ یہودیوں (دنیا کی کل آبادی میں 0.2%) نے 138 نوبیل انعامات حاصل کئے۔؂
زمین جس کے تصور میں سانس لیتی تھی
وہ ایک پیکرِ نایاب کیا یہودی تھے
ان غریب بینی اسرائیل خواتین نے مجھ سے مزید گفتگو کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ میں حظان (یہودی مولوی) کا انتظار کروں کچھ ہی دیر میں ماگین ہاسیدیم کا سمواس احاطے میں داخل ہوا میں نے جب بات بہ زبانِ انگریزی شروع کی تو اس نے سخت ترین چہرے کے ساتھ مجھے ہوشیار کرتے ہوئے کہا ’’انگریزی نہیں، مراٹھی یا ہندی‘‘۔ موصوف کا نام حانوخ باروخ بانولکر تھا۔ صرف دو جماعت تک پڑھے تھے اور پیشے پتائی کرنے والے تھے، عمر تھی 68 سال۔ بانولکر نے کہا کہ میں سنیگاگ کے اندر حظان کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتا۔ کچھ ہی دیر بعد انتظار ختم ہوا اور حظان ڈینیل سالومن واسکر تشریف لائے۔ ممبئی پورٹ اتھارٹی ڈاکس کے ریٹائرڈ ڈپٹی سپریٹنڈنٹ 61 سالہ واسکر تھا نے سے روز سنیگاگ آتے ہیں، بحیثیت ایک حظان (یہودی مولوی)۔ ہندوستان میں ممبئی کے بعد سب سے زیادہ یہودی آبادی تھانے میں ہے۔ 1991ء کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں کل 5271 یہودی ہیں جس میں سے 2160 ممبئی میں رہتے ہیں اور 1600 تھانے میں۔ واسکر کی دونوں بیٹیوں کی شادی اسرائیل میں جا بسے ہندوستان کی بینی اسرائیل ملت کے لڑکوں سے ہوئی ہے۔ ان کا اکلوتا بیٹا بھی وہیں ہے پر واسکر آج تک اپنے کو ہجرت کے لئے آمادہ نہ کر سکے۔ وہ اسرائیل کئی بار گئے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسرائیل کی معیاری زندگی ہندوستانی معیار سے کہیں زیادہ بلند ہے پر وہ ہندوستانی مٹی سے الگ نہیں ہونا چاہتے۔ جہاں ان کے بزرگ دفن ہیں۔ ان کی ذہنی کیفیت کی اچھی ترجمان ہے انور ندیم کی ’’ایک شرط‘‘:
میری طبیعت
اپنے سماج
اپنے دیش سے اوبھ چکی ہے!
میں ہندوستان سے کہیں دور
بہت دور جانا چاہتا ہوں
مگر ایک شرط کے ساتھ!
گنگا کی لہریں اور ہمالیہ کی اونچائیاں
میرے ساتھ ہوں گی
یہاں کے سنگیت کی آوازیں
اور رقص کی تمام جنبشیں
میرے ساتھ جائیں گی!
میں ہندوستان سے کہیں دور، بہت دور
جانے کے لئے بالکل تیار ہوں
مگر اسی شرط کے ساتھ!
واسکر نے مجھے ایک یہودی شادی کا دعوت نامہ دیا، دلہن یہودی تھی دلہا ہندو، جس نے اپنی معشوقہ کی خاطر یہودی مذہب قبول کر لیا تھا، یہودی مذہب قبول کرنا اتنا آسان نہیں جتنا اسلام یا عیسائی مذہب قبول کرنا ہے۔ یہودی مذہب اسلام اور عیسائیت کے برخلاف تبلیغی مذہب نہیں، یہودی اپنے مذہب کے ماننے والوں کی تعداد میں اضافے کے لئے کوئی جتن نہیں کرتے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ نسلاً کسی غیر یہودی کے لئے یہودی بننا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی مذہب بنیادی طورپر بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب کی اولادوں تک ہی محدود رہا جبکہ اسلام اور عیسائیت کا پیغام ساری دنیا کی تمام نسلوں اور قوموں تک پہنچا!۔
ماگین ہاسیدیم ایک شاندار سنیگاگ ہے۔ ممبئی میں سب سے زیادہ تعداد میں یہودی عقیدت مند اسی سنیگاگ میں آتے ہیں۔ اس کی تعمیر 1904ء میں مکمل ہوئی!۔ ماگین ہاسیدیم سے میں تفریت اسرائیل سنیگاگ دیکھنے 92 کلارک روڈ، جیکب سرکل، سات راستہ گیا۔ جہاں ایک انتہائی بدشکل یہودن نے میرا استقبال کیا۔ ہندوستان میں بینی اسرائیل دو فرقوں میں بٹ گئے۔ گورا اسرائیل اور کالا اسرائیل۔ کالا اسرائیل سے مراد وہ بینی اسرائیل یہودیوں کی اولادیں ہیں جنہوں نے مقامی عورتوں سے شادی کی۔ اس عورت کو دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ کالی اسرائیل ہے۔ وہ سنیگاگ کے ہی احاطے میں اپنے کنبے کے ساتھ ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی تھی۔ اس نے فوراً ہی میرے لئے سنیگاگ کا تالہ کھول دیا جب میں نے حظان کے لئے پوچھا تو اس نے کہا کہ ’’نماز‘‘ کا وقت بس ہوا ہی جاتا ہے۔ حظان آتے ہی ہوں گے۔ ہندوستان میں یہودیوں نے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی شبداولی اپنا لی۔ بینی اسرائیل اپنی عبادت کو ’’نماز‘‘ اور عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کہتے ہیں۔ ممبئی میں مسجد نام کا ایک لوکل اسٹیشن بھی ہے۔ اس کا نام مسجد اصل میں کسی مسلم مسجد کی موجودگی کے باعث نہیں بلکہ ایک یہودی عبادت گاہ سنیگاگ کی وجہ سے ہے۔ 1923ء میں 35600 روپے میں تفیرت اسرائیل سنیگاگ عوام میں ’’کانڈ لیکرانچی مشد‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تفیرت سنیگاگ کے بالکل سامنے بھگان شِو کا ایک چھوٹا سا مندر ہے!۔
تفیرت سنیگاگ سے میں گھنی مسلم آبادی کے بیچوں بیچ بینی اسرائیل یہودیوں کی سب سے پرانی عبادت گاہ شارہا رہامین سنیگاگ دیکھنے گیا۔ اس سنیگاگ کی کہانی دلچسپ ہے۔ 1857ء کی غدر سے پہلے مومبے پریسیڈینسیکے آدھے افسران بینی اسرائیل یہودی تھے۔ 1783ء میں دوسری میسور جنگ کے دوران بیدنور میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہامبے کونٹن جینٹ کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور بہت بڑے پیمانے پر کمپنی فوج کے سپاہیوں اور افسران کو قیدی بنا لیا گیا۔ ٹیپو سلطان نے تمام دشمن فوجی قیدیوں کو سزائے موت دی پر اپنی والدہ کے کہنے پر بین یاسرائیل فوجیوں کو بخش دیا اور 1784ء میں جنگ کے ختم ہونے پر انہیں آزاد کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی فوجی ٹکڑی میں ایک یہودی صوبے دار میجر سیموئیل ازیکیل دویکر (ساماجی ہاساجی وویکر) نے اپنی قید کے دوران قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی رہائی پر شکرانے کے طورپر ایک عبادت گاہ تعمیر کرائے گا۔ دویکر نے 1796ء میں مانڈوی، ممبئی میں شارہا رہامین سنیگاگ بنوایا۔ شارہا رہامین کے معنی ہیں رحمت کا دروازہ۔ یہ سنیگاگ اسی سڑک پر ہے جس کا نام آج سنیگاگ کے خالق کے نام پرسیموئیل اسٹریٹ ہے!۔
اگلے دن جب میں ماہم میں ایس کیرمارگ پہ کاکڑ ادیوگ بھون کی عمارت میں جوئش کمیونٹی سینٹر پہنچا تو ایک ایسی یہودی حسینہ نے استقبال کیا جسے دیکھتے ہی بے ساختہ انور ندیم کی ایک یہودی ہم سفر یاد آ گئی:
’’سکندر آباد کا ریلوے پلیٹ فارم، جیسے کشمیر میں زعفران کا کھیت۔ دیش بھر کے سندر، کومل چہروں کا میلا۔ ٹرین میں ادھر ادھر ایک دو نہیں کئی روشن چہرے اور ہم پانچ شاعروں کی سیٹوں پر پہلے سے ایک فرشتہ براجمان۔ ندیم کو یہ احساس کہ؂
نگاہ برق نہیں، چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
فرشتہ، نام سے سائرا۔ شہریت سے انگلستانی۔ مذہب سے یہودی۔ پیشے سے ڈاکٹر۔ بدن سے پھول۔ ہونٹ سے شہد۔ آنکھ سے جذبہ۔ چہرے سے کتاب۔ اگنی کی طرح روشن اور ناریل کے پانی کی پاک۔ ہونٹ کھولے تو لگے اپنا ساتھی۔ چپ رہے تو لگے اپنی آتما۔ پاس بیٹھے تو جی کا قرار۔ کہیں اٹھ کے جائے تو سب کی آنکھوں میں انتظار بھر کر۔ پرانی زبانوں کے مذہبی گیت، جیسے اس کی آواز کے ہرن کی جادوئی آنکھ۔ اپنی دھنوں میں دوسروں کی شرکت کو پسند کرنے والی اور رازالہ آبادی کے ترنم کو غور سے سننے کچھ سمجھنے اور برتنے والی ایک پاکیزہ روح۔‘‘
انور ندیم، جلتے توے کی مسکراہٹ، ہم لوگ پبلیشرز لکھنؤ 1985ء صفحات: 136-37)
اگلے دو دن میں ممبئی کے مختلف مقامات پر گیا جیسے شارے راسون سنیگاگ 90، ٹنٹن پورہ وڈ؍ راڈیف سلوم سنیگاگ 23، سوسیکس رواڈ، وکٹوریہ گارڈینس کے قریب؍ ڈیوڈ سیسون انڈسٹریل اینڈ رفارمیٹری انسٹی ٹیوشن ماٹنگا، ایلفنسٹن ٹیکنیکل ہائی اسکول مہاپالکا مارگ؍ سرایلی کدوری اسکول مزگاؤں؍ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میڈم کاکا روڈ فورٹ؍ مسینہ ہسپتال بائی کلہ؍ سرسیسون ڈیوڈ ہسپتال اور حیفکین انسٹی ٹیوٹ جو 1899ء میں پلیگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی حیثیت سے قائم ہوا تھا۔ پر 1925ء میں اس کا نام عظیم یہودی سائنس دان ڈاکٹر والڈیمر حیفکن کے نام پر رکھ دیا گیا۔ ڈاکٹر حیفکن نے کالر اور پلیگ کی ویکسینیں ایجاد کیں۔ میں ممبئی کے تیسرے سب سے بڑے کتب خانے ڈیوڈ سیسون لائبریری بھی گیا۔ یہ بامبے یونیورسٹی کے قریب اور جہانگیر آرٹ گیلری کے بالکل سامنے ہے۔ مامبے یونیورسٹی سے گزرتے وقت مجھے ہندوستان کی جدید انگریزی شاعری کے فرد اول پدم شری نیسم ازیکیل (ایک بینی اسرائیلی یہودی) کا خیال آیا جو یہاں انگریزی کے پروفیسر تھے۔ یہیں قریب میں تھی بغدادی یہودیوں کی شاندار عبادت گاہ کینیست ایلیاہو سنیگاگ اس سنیگاگ اور سیسون لائبریری کے درمیان ایک وسیع چوک ہے جسے کالا گھوڑا کہا جاتا ہے۔ اس کا نام کالا گھوڑا اس لئے ہے کہ یہاں گھوڑے پر سوار شاہ ایڈورڈ VII کا تانبے کا ایک مجسمہ تھا اور گھوڑے کی رنگت سیاہ تھی، یہ مورتی ایک 14 فٹ اونچے چبوترے پر تھی اور ود مورتی کا قد تھا 12.9 فٹ۔ اب اس مجسمے کو وکٹوریہ گارڈینس منتقل کر دیا گیا۔ اس مورتی کو 1878ء میں عظیم یہودی شخصیت سرالبرٹ سیسون نے شہر کو نذر کیا تھا!۔
میری اس درمیان جتنے یہودیوں سے ملاقات ہوئی سب نے قسمیں کھا کے یہی کہا کہ انہوں نے ہندوستان میں اپنے لئے کبھی کوئی تعصب محسوس نہیں کیا۔ یہ ایک قیمتی انکشاف تھا کیونکہ دنیا میں ہر جگہ یہودیوں پر بے پناہ ظلم ہوئے ہیں۔ ہٹلر نے تو اپنے وقت کی ایک تہائی یہودی آبادی کا صفایا ہی کر ڈالا۔ تاریخ میں یہودی عالمی دلت نظر آتے ہیں۔؂
زہر پھونکا کریں مسخرے رات دن، جھوٹ اگلا کریں یہ کتابیں تو کیا
یہ حقیقت رہے گی ہمیشہ اٹل
خون اس کا ہمیشہ بہایا گیا خون جس نے کسی کا بہایا نہیں
15 نومبر 3ء ممبئی میں میری آخری شام تھی۔ میں کولابہ کے بازار میں اپنے لئے پارسی ٹوپی تلاش کر رہا تھا، اپنی دلچسپی کے باعث۔ تبھی کسروباغ پارسی کالونی کے وسیع دروازے پر مجھے ایک سن رسیدہ خاتون نظر آئیں۔ میں محترمہ کے قریب جیسے یہ جا کر بولا میں نے محسوس کیا کہ وہ سہم گئیں۔ جس کے نتیجے میں میں گھبرا گیا کہ کہیں وہ گر نہ جائیں۔ وہ اس وقت فٹ پاتھ پر کسی دکان دار سے کچھ خرید رہی تھیں۔ میں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی ایسی دکان جانتی ہیں جہاں مجھے پارسی ٹوپی مل سکے۔ اس کے جواب میں وہ مجھے کسرو باغ میں اپنی بیٹی مہر کے فلیٹ پر لے گئیں۔ جہاں ہماری کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔ 78 سالہ گول (کل) جمشید ڈرائیور کی پیدائش کراچی میں ہوئی جہاں 1947ء میں اپنی شادی اور تقسیم ملک کے بعد وہ ممبئی میں آ بسیں لیکن تب سے لے کر آج تک کوئی ایسا سال نہیں گیا جب وہ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے پاکستان نہ گئی ہوں (سوائے ہند و پاک جنگوں کے وقت)۔ مسز ڈرائیور ایک جہاں گرد خاتون تھیں جو تخت جمشید کی زیارت کے لئے ایران بھی جا چکی تھیں۔ ایران میں سرکاری ذرائع کے مطابق 91 ہزار اور غیر سرکاری ذرائع کے مطابق 30 ہزار پارسی رہتے ہیں۔ زیادہ تر نے دیہات میں سکونت اختیار کر رکھی ہے، ہندوستان میں پارسی آبادی تقریباً 70 ہزار ہے ہندوستان میں پارسیوں کی معاشی اعتبار سے وہی حیثیت ہے جو دنیا میں یہودیوں کی۔ ایسا اندازہ ہے کہ 1850ء تک آدھا ممبئی پارٹیوں کی ملکیت بن چکا تھا، ہندوستان کے 70 فیصد پارسی ممبئی میں رہتے ہیں۔ مسز ڈرائیور نے بتایا کہ پاکستان میں تین ہزار پارسی ہیں جو ہندوستانی پارسیوں سے بھی زیادہ خوشحال ہیں چونکہ تعداد میں کم ہیں اس لئے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں اگر کسی پر مصیبت آتی ہے تو پوری ملت مدد کرتی ہے، ہندوستان کی پارسی ملت ایک مرتی ہوئی قوم ہے جس کا پیدائش کا در موت کے در سے کم ہے۔ مسز ڈرائیور اس بات سے بڑی حیرت زدہ ہوئیں کہ میں ایک ’’آگیاری‘‘ (پارسی عبادت خانہ) میں جانے میں کامیاب کیسے ہوگیا کیونکہ غیر پارسیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مسز ڈرائیور نے مجھے پارسی حلوے اور ایک نہیں دو مختلف پارسی ٹوپیوں کے ساتھ رخصت کیا!۔
لوٹتے وقت میری نظر پڑی ایسٹر جنرل اسٹورل پر۔ مجھے دکان کے نام سے شک ہوا کہ کہیں یہ کسی یہودی کی تو نہیں۔ میرا شک صحیح نکلا پر دکان کے مالک موزز رافیل جوزف نے یہ کہہ کر میرا دل دہلا دیا کہ ’’آج ہماری دو عبادت گاہوں پر حملہ ہو گیا۔ زبردست بم دھماکے ہوئے‘‘ یہ سن کر میں بری طرح ڈر گیا۔ مجھے خیال گزرا کہ کہیں اب میں گرفتار نہ ہو جاؤں کیونکہ اپنے مسلم سر نیم کے ساتھ میں پچھلے چار دنوں سے یہودی عبادت گاہوں کا دورہ کر رہا تھا۔ سکون تب ملا جب انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ممبئی میں نہیں ہزاروں کلومیٹر دور استنبول (ترکی) میں پیش آیا تھا۔ اگلے دن لکھنؤ کے لئے یشپک اکسپرس میں میں نے اس خبر کی تفصیل کو پڑھا اور ساری دنیا میں یہودیوں کے لئے پھیلی نفرت کے بارے میں سوچتا رہا!۔
نورس جاٹ آفریدی

No comments:

Post a Comment